Youth Awareness











{August 17, 2012}   Who is Behind Kamra Attack ?

On August 16, one of the largest air bases in Pakistan, the Minhas air base located at Kamra in Central Punjab some 45 miles northwest of Islamabad, was attacked by Islamist militants as reported in the media. During the dark hours of the night they barged in from a nearby village with rocket-propelled grenades and automatic weapons wearing suicide bombing vests and disguised as military personnel. The Commandos of Pakistan Army were successfully able to counteract the aggression that went on for about eight hours and it resulted in the loss of one Pakistani soldier, damaged one aircraft and injured the base commander, Air Commodore Muhammad Azam.

Nine extremists have been reported dead during the scuffle which the Pakistani Taliban claimed was part of their plan for a long time. They are known for targeting different military sites in the Country to uproot Pakistan military’s strength, but have failed at every single time as the military intelligence is alert. According to Pakistan Air Force spokesman, Captain Tariq Mahmood, the Minhas air base at Kamra does not store nuclear weapons, contrary to the earlier media reports. In fact, he revealed that no air base in Pakistan has any nuclear weapons. The Minhas air base has several squadrons of fighter jets, including JF-17 fighter jets and surveillance planes and was declared clear after the search operations for any hiding militants were over.

The fact that it is located adjacent to the Pakistan Aeronautical Complex, which is a major air force research and development center, has made some analysts suspicious of Pakistan military’s readiness to such expected militant retaliations. However, this is not the first time that suicide bombers have launched attacks at the site, as in 2007 and 2009 the same place came under their threat. This latest one at Kamra could be seen as a result of the offensive Pakistan Army has declared for the tribal belt recently. The U.S. State Department did not seem to be perturbed in
its trust on Pakistan military’s capability, especially keeping with the recent improvement in their relations with Pakistan Army and believes the site being free of nuclear weapons.

Thus, these militants were made to think that it was a nuclear-armed air base by the enemies of Pakistan who want to destabilise it and show that Pakistani nukes are not in safe hands. Tracing back their such perception, it implies that the India’s Research and Analysis Wing (RAW) and Israel’s Institute for Intelligence and Special Operations, commonly known as Mossad, might have been behind instigating such havoc. It is clearly beyond the means of Pakistani Taliban to
exploit the Minhas air base and might be part of higher tactics against Pakistan military. Both RAW and Mossad has been insistent on claiming Pakistani nukes unsafe.

The Pakistani nation can take pride in Pakistan military that it has been able to shift the terrorist attacks away from innocent civilians as the decline in the terrorist incidents amongst the civilian population across Pakistan has been significant. Although, it could be seen as a tactical shift in the Pakistani Taliban’s strategy against Pakistan military, but never the less, the people have been rightfully protected by their saviours.

Pakistan’s Defence Minister, Naveed Qamar, has acknowledged the preparedness with which the Commandos defended the air base. It should not be taken as a security lapse, but rather as a proof of how prepared Pakistan military is round the clock. Pakistan Air Force has also released many images of the Kamra attack incident to the media as there is nothing to hide as suggested by those suspicious of Pakistan military’s ability to safeguard its people, its territory and its nukes.

Courtesy : Pak Soldiers

 




بسم اللہ الرحمن الرحیم

آئے دن رپورٹ ہوتی ہے کہ آج ایک پاکستانی نے فلاں کارنامہ/ایجاد کر کے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ کئی بار مجھے لگتا ہے کہ بالکل معمولی معمولی باتوں پر ہمارے سر فخر سے بلند اور اسی طرح معمولی سی بات پر شرمندگی سے جھک بھی جاتے ہیں۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ”چڑی موترے تے کانگ“ یعنی چڑیا پیشاب کرے تو سیلاب۔ جب لوگ معمولی معمولی باتوں سے بڑے بڑے نتائج اخذ کرنے لگ جائیں تو وہاں یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کیا عجب تماشہ لگا ہوا ہے۔ جیسے معمولی سی بات پر ہمارا سب کچھ خطرے میں پڑ جاتا ہے بالکل ویسے ہی ”چڑی موترے“ تو ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا آپ لوگوں کو میری ان باتوں پر غصہ آ رہا ہو لیکن کبھی ہم نے اپنے میڈیا، انقلابیوں اور ”ایجادیوں“ پر غور کیا ہے کہ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟ میڈیا کی رپورٹوں پر غور کریں تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سارے نہیں تو کم از کم نوے فیصد ”بلنڈر“ ضرور ہیں۔ اگر کوئی حقیقت بیان کرے تو یار لوگ کیا کہتے ہیں اس پر ایک علیحدہ تحریر ہو گی۔ فی الحال موضوع کچھ اور ہے۔

ہاں تو میں بات کر رہا تھا، میڈیا اور ایجادیوں کی۔ میڈیا اور ایجادیوں کے تماشوں کی چند مثالیں دیتا ہوں اور ساتھ میں حقیقت کیا ہے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے غالباً پچھلے رمضان (2011ء) میں ایک صاحب جیو نیوز چینل پر آئے اور اتنے دھڑلے سے جھوٹ بول رہے تھے کہ جن کو دیکھ کر شرمائیں یہود و ہنوز۔ بات قرآن پاک کے تلاش والے اردو سافٹ ویئر کی کر رہے تھے کہ یہ پہلا سافٹ ویئر ہے، اس جیسا آج تک نہیں بنا، یہ امت مسلمہ کو میری طرف سے رمضان میں تخفہ ہے۔ اگر لوگ تعاون کریں تو میں اس سے زیادہ اچھا اور احادیث کا سافٹ ویئر بھی بنا دوں گا (لنک)۔ اینکر کامران خان نے اس بات پر انہیں پتہ نہیں امت مسلمہ کا کیا کیا بنا دیا۔ حد ہو گئی یار۔ ٹھیک ہے آپ نے قرآن پاک کا سافٹ ویئر بنایا ہے۔ اچھا کام کیا ہے لیکن اتنے جھوٹ تو نہ بولو اور جنہوں نے تم سے پہلے کئی ایک زبردست سافٹ ویئر بنائے ہیں اور بغیر کسی دنیاوی لالچ کے ان کو دیوار سے تو مت لگاؤ۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ کوئی زاہد حسین نامی صاحب تھے اور ان سے پہلے کئی ایک اور ان کے سافٹ ویئر سے زیادہ معیاری سافٹ ویئر موجود ہیں، جیسے ایزی قرآن و احادیث اور نور ہدایت وغیرہ۔

آج کل ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے، گویا اس بارے میں ایک چھوٹی سی شرلی چھوڑ دو تو سارے کام ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک رپورٹ دیکھی جس میں ایک صاحب ٹیوب ویل کے پانی کے بہاؤ سے بجلی بنا رہے تھے اور نتیجہ میں ایک ایل ای ڈی (LED) روشن تھی۔ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر حکومت تعاون کرے تو میں ملک کو بجلی کے بحران سے نکال سکتا ہوں۔ او خدا کے بندے پہلے جو تربیلا اور منگلا پاور ہاؤس چل رہے ہیں وہ بھی تو اسی تکنیک پر چل رہے ہیں تو تو نے کونسا نیا تیر مارا ہے۔ ویسے بھی کئی ہارس پاور کی موٹر سے، تو ٹیوب ویل چلا رہا ہے اور پھر نتیجہ میں ایک ایل ای ڈی۔ حد ہو گئی جہالت کی۔ اس طرح کی ایل ای ڈی تو جتنی وہی ٹیوب ویل والی موٹر حرارت چھوڑ رہی ہے، اس سے جلائی جا سکتی ہے۔ ویسے بھی پانی کے بہاؤ کی حرکی توانائی سے بجلی بنانے کے ایک ہزار ایک طریقے دنیا میں رائج ہیں تو پھر تو نے کونسی نئی تکنیک ایجاد کی جس وجہ سے تو اتنا اترا رہا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میں بھی اپنے ٹیوب ویل پر ایسا ”پروجیکٹ“ تیار کروں بلکہ ہمارے پاس تو اتنا بڑا دریائے چناب ہے۔ سو دو سو روپے کا ایل ای ڈی چلانے والا چھوٹا سا جنریٹر مل جائے گا، بس پھر پانی سے اسے گھماؤ گا اور مشہور ہو جاؤں گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا پر آنے کے لئے ایک کنال زمین بھیجنی پڑے گی کیونکہ میرے پاس نہ تو کوئی سفارش ہے اور نہ ہی اتنے پیسے۔

ایک رپورٹ میں تھا کہ ایک صاحب نے جدید قسم کا جنریٹر تیار کر دیا۔ وہ صاحب کر یوں رہے تھے کہ انہوں نے گاڑی کی ڈِگی میں ایک بیٹری رکھی ہوئی تھی اور اسے گاڑی کے جنریٹر سے چارج کر رہے تھے۔ پھر اس بیٹری کے آگے انورٹر لگا کر پنکھا چلا رہے تھے۔ کر لو گل! ہو گیا جدید قسم کا جنریٹر تیار۔ یہ رپورٹ دیکھ کر میرا دل کر رہا تھا کہ زور زور سے چیخیں ماروں، اپنے میڈیا کی جہالت پر ماتم کروں اور میڈیا والوں کو کہوں کہ خدا کا خوف کرو، پہلے ہی دنیا میں ہماری بڑی بے عزتی ہو رہی ہے اب اس انداز سے تو نہ کرواؤ۔ اگر یہ رپورٹ کسی دوسرے ملک کے اردو سمجھنے والے، تھوڑے سے تکنیکی بندے نے دیکھ لی تو وہ ہر فورم پر ہماری جہالت پر ہنسے گا، کیونکہ ایسے کام اب بچوں کا کھیل ہیں اور تم اسے ”جدید قسم کا انوکھا جنریٹر“ کہہ رہے ہو۔

پچھلے دنوں ایک صاحب کا بہت چرچا ہوا جن کے دے انٹرویو پر انٹرویو اور رپورٹوں پر رپورٹیں کہ جناب نے پانی سے گاڑی چلائی ہے۔ میں اور میرے دوست غلام عباس نے سوچا ہو سکتا ہے کہ اس نے پانی میں سے آکسیجن اور ہائیڈروجن علیحدہ علیحدہ کرنے کا کوئی نیا اور زبردست طریقہ ایجاد کر لیا ہو۔ خیر ہم اس بندے کو ملنے گئے۔ سارا دن کی کھجل خرابی کے بعد اس کے گاؤں پہنچے۔ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔ کوئی پانی سے گاڑی نہیں چل رہی تھی بلکہ وہی انیسویں صدی والی تکنیک استعمال کر کے بالکل معمولی سی ہائیڈروجن حاصل کی جا رہی تھی جو پٹرول کے ساتھ ملا کر جلائی جا رہی تھی تاکہ انجن کی تھوڑی طاقت زیادہ ہو جائے۔ اب پتہ نہیں طاقت زیادہ ہوئی بھی تھی یا نہیں لیکن پانی سے انجن/گاڑی چلانے والا سیدھا سیدھا جھوٹ تھا۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میڈیا نے اس کی اتنی جھوٹی تشہیر کیوں کی لیکن اس بندے سے مل کر ایک بات واضح ہوئی کہ وہ بندہ بذاتِ خود بہت اچھا تھا، درد دل رکھنے والا انسان ہے اور پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ اس نے خود میڈیا کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہمیں بہت تنگ کیا ہے۔ باقی اس نے خود مانا کہ پانی سے گاڑی نہیں چلائی جا رہی بلکہ مجھے انجن کی تھوڑی زیادہ طاقت چاہئے تھی تو میں نے اس کے لئے ہائیڈروجن والا طریقہ سوچا۔ مگر ہمارے میڈیا نے تو وہ گاڑی سو فیصد پانی سے چلوا دی تھی۔

پچھلے دنوں ایک اور شور مچا ہوا تھا کہ سوات کے نوجوان نے پانی سے جنریٹر چلا کر بجلی بنا دی۔ جس میں کہا گیا کہ اس نے پانی سے انجن چلایا اور پھر اس انجن سے بجلی بنانے والی ڈینمو گھمائی۔ اب ایک اور شوشا بڑے عروج پر ہے، اس بار تو حد ہی ہو گئی۔ وزیراور بڑے بڑے اینکر اور تو اور کئی اہم شخصیات جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کے چیرمین ڈاکٹر شوکت پرویز بھی اس کھیل میں اس ”شوشے“ کے حق میں کود چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن فی الحال اس ”ایجاد“ کو کچھ اس طرح نہیں مان رہے کہ ان کا خیال ہے کہ ایک تو اس کی اچھی طرح جانچ ہونی چاہئے اور دوسرا یہ کہ اس طرح پانی سے گاڑی چلنا ناممکن ہے کیونکہ یہ سائنس کے بنیادی اصول توانائی کی ایک حالت سے دوسری میں تبدیلی اور تھرموڈائنامکس کے پہلے قانون کے خلاف ہے۔

پانی سے گاڑی چلانے والے بندے آغا وقار کا کہنا ہے کہ بس اس کی بنائی ہوئی ”واٹر کِٹ“ میں صرف خالص پانی ڈالتے جاؤ تو گاڑی چلتی رہے گی۔

میں سائنس کا کوئی ”راکٹ سائنس“ طالب علم نہیں مگر حیران ہوتا ہوں کہ ایسی معمولی باتیں میں جانتا ہوں تو ان ”وڈے“ لوگوں کو کیا نہیں پتہ، یا کہیں ایسا تو نہیں کہ ”سب مایا ہے“ کیونکہ یہ جو پانی سے انجن چل رہے ہیں اس طریقے کی تفصیل تو میڑک کا طالب علم بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

خیر آپ کو اس کی تھوڑی سی حقیقت بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔

پانی سے انجن چلانے کے لئے فی الحال صرف ایک طریقہ ہے کہ پانی کی برق پاشیدگی (Electrolysis) کی جائے اور اس میں سے ہائیڈروجن حاصل کر کے اسے ایندھن کی جگہ انجن میں جلایا جائے یا پھر کسی اور طریقے سے اسی ہائیڈروجن کو استعمال میں لایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں پانی سے ہائیڈروجن حاصل کر کے اس سے انجن چلایا جا سکتا ہے اور ہمارے ”ایجادیئے“ ایسا ہی کر رہے ہیں، مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ پانی سے ہائیڈروجن حاصل کرنے پر کتنی توانائی لگے گی اور نتیجہ میں ہمیں کتنی توانائی ملے گی؟ ہائیڈروجن حاصل کرنے پر جتنی لاگت آئے گی کیا موجودہ ایندھن جیسے ڈیزل اور پٹرول وغیرہ سے سستی ہو گی؟

اس طریقے میں سب سے پہلا مرحلہ ہے پانی کی برق پاشیدگی۔ توانائی کے سائنسی اصولوں کے مطابق اگر سب کچھ آئیڈیل ہو تو پانی کی برق پاشیدگی پر جتنی توانائی خرچ ہو گی، پانی سے حاصل ہونے والی ہائیڈروجن آگسیجن کے ساتھ جل کر اتنی ہی توانائی دے گی۔ عام طور پر پانی کی پاشیدگی کے لئے بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ دنیا میں فی الحال ایسے آئیڈیل حالات تیار نہیں ہوئے لہٰذا جتنی توانائی برق پاشیدگی پر لگے گی اس کا کچھ حصہ حرارتی اور دیگر توانائی کی اقسام میں تبدیل ہو جائے گا اور یوں حاصل ہونے والی ہائیڈروجن جتنی توانائی دے گی اس سے زیادہ توانائی برق پاشیدگی اور دیگر کاموں پر پہلے ہی لگ چکی ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ فرض کریں کسی نے کوئی آئیڈیل حالات بنا بھی لئے ہوں (جوکہ کم از کم زمین پر فی الحال ناممکن کے قریب تصور کیا جاتا ہے) تو پھر بھی جتنی توانائی پانی کی برق پاشیدگی پر لگاؤ گے نتیجہ میں اتنی ہی توانائی ہائیڈروجن کو جلا کر حاصل ہو گی۔ اب آپ ہائیڈروجن سے انجن چلا کر اس سے گاڑی کا پہیہ گھماؤ یا پھر بجلی بنانے والی ڈینمو، یہ آپ کی مرضی مگر پانی کو توڑنے (پاشیدگی) پر جتنی توانائی لگا رہے ہو اتنی ہی توانائی حاصل کر پاؤ گے۔

اب جیسے پاشیدگی کے لئے بجلی کا استعمال ہوتا ہے تو اگر سب کچھ آئیڈیل ہو تو پھر برق پاشیدگی سے حاصل ہونے والی ہائیڈروجن کو استعمال کرتے ہوئے ہم اتنی ہی بجلی بنا پائیں گے جتنی کہ برق پاشیدگی پر لگائی تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جتنی بجلی لگائی، اتنی ہی حاصل ہوئی۔ اسی طرح اگر ہم انجن چلانے کے لئے پانی کی پاشیدگی پر جتنی بجلی لگاتے ہیں اگر اتنی ہی بجلی سے موٹر چلائیں تو وہ بھی انجن جتنا ہی کام کرے گی۔

پانی سے ہائیڈروجن حاصل کر کے انجن تو چل گیا مگر ہائیڈروجن حاصل کرنے پر جو بجلی لگائی ہے وہ کہاں سے آئے گی؟ اس بجلی کی جتنی قیمت ہو گی کیا اس سے سستی ہائیڈروجن ویسے ہی مارکیٹ سے نہیں مل جائے گی؟ کیا ہائیڈروجن کی ٹرانسپورٹ موجودہ ایندھن (پٹرول اور ڈیزل) جتنی آسان ہو گی؟ کیا ہائیڈروجن سے سستا ایندھن پہلے موجود نہیں؟

جب ہم ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ پانی کی برق پاشیدگی کرنے والے طریقے پر موجودہ ایندھن کی نسبت زیادہ خرچ آتا ہے اور اس طریقے سے سستے اور آسان طریقے پہلے ہی دنیا میں رائج ہیں۔ عام لوگ بس یہی دیکھتے ہیں کہ لو جی پانی سے انجن/گاڑی چل گئی مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ پانی کو کن کن مراحل سے گزارا گیا ہے اور اس پر خرچہ کتنا آیا ہے۔ آج کل جو بندہ آغا وقار بڑا مشہور ہوا ہے میرا اس بندے سے سوال ہے کہ
پانی کی برق پاشیدگی پر جو بجلی لگ رہی ہے وہ کہاں سے آئے گی؟
جواب:- گاڑی میں موجود بیٹری سے۔
گاڑی کی بیٹری کیسے چارج ہو گی؟
گاڑی کے جنریٹر سے۔
جنریٹر کیسے گھومے گا؟
گاڑی کے انجن سے۔
انجن کیسے چلے گا؟
ہائیڈروجن سے۔
ہائیڈروجن کہا سے آئے گی؟
پانی کی برق پاشیدگی سے۔
پانی کی برق پاشیدگی کیسے ہو گی؟
بجلی سے۔
بجلی کہاں سے آئے گی؟
گاڑی کی بیٹری سے۔
افف ف ف ف ف ف ف۔۔۔ یا میرے خدا ہم پر رحم کر۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے خود ہی سوال کیے اور خود ہی جواب لکھ دیئے۔ مگر ایسا نہیں سوال میرے ہیں جبکہ جواب آغا وقار کے ہی ہیں کیونکہ وہ یہ جواب مختلف پروگراموں میں دے چکا ہے۔ خیر آغا وقار کے بنائے ہوئے نظام میں صرف ہمیں پانی ڈالنا ہے۔ بس پھر گاڑی کی بیٹری سے پانی کی برق پاشیدگی ہو گی اور پھر عمل چالو ہو جائے گا یعنی ایک چکر چل پڑے گا جس میں صرف پانی ڈالتے جاؤ۔ یقین کرو اگر واقعی ایسا ہوا تو پوری دنیا بدل جائے گی اور اس طریقے سے دنیا بدلنے کی کوشش سو دو سو سال پہلے ہی سیانے لوگ کر کے تھک ہار چکے مگر آغا وقار :-)

یارو! تیاری پکڑو! بس اب اس بندے آغا وقار کے حق میں بولنے یعنی اس کی ”ایجاد“ کو ماننے والے یعنی سب سے پہلے ہمارا میڈیا اور پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر شوکت پرویز اور کئی وڈے لوگوں کی واٹ لگنے والی ہے کیونکہ انہوں نے آن دی ریکارڈ سب کچھ کہا ہے :-) یا پھر سائنس ایک بہت اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے اور ایسا ”یوٹرن“ لے گی کہ ساری کائنات ”ٹرنوٹرن“ ہو جائے گی۔ آج کی فزکس منہ کے بل گرے گی۔ فزکس کے تمام نوبل انعام آغاوقار کو مل جائیں گے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان کہلائے گا۔ یورپ، امریکہ اور ساری دنیا پاکستان کی مقروض ہو جائے گی۔ شاید آپ کو یہ باتیں مذاق لگ رہی ہوں مگر جناب اگر آغا وقار کے طریقے سے گاڑی چل گئی اور صرف پانی سے چلتی رہی تو پھر واقعی یہ دنیا کی عظیم ترین ایجاد میں سے ایک ہو گی اور اس سے واقعی دنیا بدل جائے گی۔ (دیوانے کا خواب)

خیر میں تو کہتا ہوں کہ اس بندے آغا وقار کو سخت سے سخت سیکیورٹی میں رکھا جائے کیونکہ اگر اسے کچھ ہو گیا تو لوگوں نے کہنا ہے کہ دیکھا ایک ”عظیم سائنسدان“ کو مروا دیا گیا ہے۔ خیر اس کے بنائے ہوئے نظام کی مکمل جانچ کی جائے اور فراڈ ہونے کی صورت میں اس کی بجائے ہمارے میڈیا کو الٹا لٹکا کر لتر مارنے چاہئے جو بغیر تحقیق کے باتیں کرتے پھرتے ہیں اور اس جیسے بندے کو اتنا منہ زور کر دیتے ہیں کہ وہ اچھے بھلے ڈاکٹر عطاء الرحمن کی بے عزتی کرتا پھرتا ہے۔ اور اگر یہ واقعی سچ ہوا تو پھر لات مارو پوری فزکس کو اپنی نئی فزکس تیار کرو۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک عام پاکستانی اس بات پر بڑا جذباتی ہو رہا ہے کہ دیکھو ایک پاکستانی سے کتنی بڑی ایجاد کر دی۔ اے میرے پاکستانی بھائیو! خدارا کچھ ہوش کے ناخن لو۔ ہر چیز کو جذبات کے آئینے سے نہ دیکھا کرو بلکہ حقیقت کو پہچانو۔

دنیا میں بہت کچھ نیا ہوا ہے۔ سائنس نے کئی جگہوں پر یوٹرن لیا ہے۔ مگر یہ بندہ آغا وقار جو دعوہ کر رہا ہے اس پر میرا ذاتی خیال پوچھو تو میں اس طرح پانی سے گاڑی چلنے والی بات کو نہیں مانتا کیونکہ میری تحقیق کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، یاد رہے پانی سے گاڑی چل سکتی ہے مگر اس پر خرچہ ڈیزل یا پٹرول سے زیادہ آتا ہے۔ باقی پھر کہوں گا کہ میں سائنس کا کوئی ”راکٹ سائنس“ طالب علم نہیں اس لئے میں غلط بھی ہو سکتا ہوں۔ اجی میں کیا ہوں، اب تو جو صورت حال بن چکی ہے وہاں تو اچھے اچھوں کی واٹ لگنے والی ہے۔ مگر شرط ہے کہ آپ لوگ نہ بھولیے گا۔

میرا مقصد مایوسی پھیلانا یا اپنے پیارے پاکستانیوں کے کارناموں کو غلط ثابت کرنا نہیں، بس یہ کہتا ہوں، اللہ کا واسطہ ہے کہ پہلے کوئی کارنامہ کرو تو سہی۔ ”ایجادی“ کی بجائے موجد بنو۔ جاہل میڈیا کے بل پر عام عوام کو جاہل نہ بناؤ۔ ”کارنامے“ بلکہ میں تو انہیں کرتوت کہوں گا، کرتوت ایسے ہیں کہ جن پر سینہ چوڑا کرنا تو دور کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پاکستانیوں کو عقل دے اور ہم حقیقی معنوں میں کچھ ایجاد کر دنیا کو حیران کر دیں اور اپنے ملک کو ترقی دیں۔۔۔آمین

 

 

 



{May 28, 2012}   EVOLUTION OF A NATION

Pakistan was inevitable. This has been discussed thoroughly by so many for so many years. In prepartition India there lived many nationalities, collectively called Indians. When India was divided on 14th August 1947 we took a pencil and on the map of the world drew out the map of Pakistan. We made Pakistan-and sowed the seed of a Pakistani Nation, expecting that in time it would germinate to a nation. On the independence day we did not transform all the Sindhis, punjabis, pushtoons etc into a Pakistani nation. Of course we hoped that these all would one day be knitted into a homogeneous mass. To me division of India was no less than a upheaval like an earthquake in the lives, society, of people of India, on both sides. In an earth quake every thing turns upside down-so did the society, it was uprooted. The most to suffer were the “QADRAIN”(traditions). It is not only that the immigrants from both sides were uprooted- but the left behind also transformed-to fill the vacuum created by the fleeing! Livelihood was to be searched anew in an alien environment. Caution for respect, right and wrong decent and indecent became secondary. One  availed the god sent opportunity. Thus barring a few, many became “Sayeds and many chaudhri and maliks!

 

The socioeconomic status of the people in areas now in Pakistan can be gauged to some extent by the fact that prior to partition in the railway divisional office at Karachi Cantt., out of 350 employees only two were muslims-one Sindhi peon and the other a pathan chowkidar! This is how the saplings of would be nation have started taking root.    Job opportunities were limited as agriculture being the major pursuit was hindered by scarcity of water and industry was nonexistent. In Sind, here in Karachi we could boast of a bone mill near manghopir and Dalmia Cement factory and a Khopra mill at Garden, a biscuit factory “J.B. Mangaram Biscuit factory at Sukkur. That was all! Soon the need for infrastructure, water, industry, electricity and every thing was contemplated. Soon we were in competition. We are in a hurry. We wish to compete with nations that are much, much older than us- We wish to reach the stars. We have set our goals very high in almost every sphere. When ever we compare ourselves or our short comings we take the U.S.A., Britain, Germany and China as instances. We do not compare ourselves among the likes of us. Britain was not much different some three centuries ago. So was not U.S.A. Chinese nation is thousands years old! No where there is so heterogenic society as in India, Pakistan and the U.S.A. The difference has been that India had been developed by the time of partition to great extent.

 

The North america faced the first invasion after having become U.S.A. for some 250 or so years. Pakistan fought three wars in its infancy. without any ally!  Whatever allies we did have they stabbed us in the back. India had been amassed with loads of armament and in 1965 war embargo was clamped on supply of armament to Pakistan, cunningly to appear very righteous, on India too. In December 1970 our friends woke from slumber and the 7th fleet rolled on snails pace to reach where it was never intended to. Any how not repenting on and correcting our mistakes we are trudging along. To my mind we have committed two major mistakes.

1.We have not understood creation of Pakistan. Why Pakistan? Why two nation theory or what is it in plain words. We are very simple people. We do not understand signs and symbols. We understand straight words and the meanings there of. We lilke to be spoon fed. Pakistan was created so that the muslims of india could live, practise their deen Islam/ or islam was to be saved, islam was in danger. How? THERE WAS NO RESTRICTION ON MOSQUES OR OFFERING PRAYERS IN INDIA. THERE WAS NO RESTRICTION ON FASTING, PERHAPS SIMILAR QUOTA FOR HAJIS, NO RESTRICTION ON ZAKAT. Islam is not confined in slaughtering of cow, if sacred in certain indian regions. I recite La Ilaha illallah, who knows if I am reciting the kalema from unfathomable depths of my heart?  MUSLIMS OF IDNIA WERE THREATENED ECONOMICALLY!

In a homeland of their own they were to share the common economy.  The bread was to feed all the components. Not that if one took a bite the others snarled and glared. Similarly the power was to be shared too, so that no body is to lament to be the “fourth Darvesh” and exclaim “SAG BASH BROTHER KHURD MA BASH” {one should prefer to be a dog than to be a younger brother)! I wonder how the liliputian Japs and the Viets took on mighty america! The key lies in Wali Khans formula of “ ONE PROVINCE ONE VOTE” for power, and pronouncement of NATIONAL FINANCE COMMITTEE AWARD, that  Musharraf having been all mighty has not been able to do and his cronies don’t have the heart. This is also one of the reason of so many one man political parties in the country.

2.We did not hold any elections in early days and when ever elections had been held were a farce! Though the façade of 1970 election is termed to be fair. I am sure had they been, at least results from Sukkur and Larkana would have been declared null and void. The result to day is that every body is a self styled “Rustam”. Let there be a true Dangal and let the giants cut themselves to size. The powers that be can always exercise their might. By declaring 98% turnout for the winner in the referendum, when the required number was paltry 10 votes to be successful, the powers only reminded the victor and the masses as to who were the king makers. ZAB forgot and was punished. Since we are a nation in the making every thing that we make can not be ship shape and to our liking. It is a continual trial and error process. We pick a piece and start cutting it to a glittering diamond, dismayed at the result, throw it and start all over again. There is progress at least, how so ever microscopic. Nations do not evolve overnight. NEITHER DOES DIAMOND!  At 60 we are only toddlers! Not that we have not achieved any thing. It is heartening that now every body, ALMOST, is wishing for fresh air in HIS OWN SPACE!



{February 29, 2012}   Mohajir identity – Ali Chishti

Supporters of Muttahida Quami Movement attend a rally in Karachi

In my book tracing the origins of the word, Mohajir, I wrote, “the word Mohajir (capital M) is vaguely traced to the 1970s and 80s, when the persecution of people of Indian ancestry gained momentum. It simply stated, when the Punjabis started calling them “HindustaaNRaan”, and the Pathans and Sindhis labelled them as “Panah Guzeer” and “Makars”, the immigrants started calling themselves “Mohajirs”, since they cannot really relate with the other four ethnicities.

Article Box

Article Box

Now, the word with the capital M has come to symbolise, correctly or incorrectly, all people who came from minority provinces of India or are the descendants of those immigrants. For me however the word “Mohajir” is not an honorific title or something to complain about – it’s simply a statement of being from somewhere else. In fact, “Ansaar” is a more positive word which means “those who help” which is something similar to democratic ideals vs democratic party. Similarly when the white Americans were searching for all kinds of nomenclature for African Americans (Negros, coloured people, and worse) these African Americans chose to call themselves “Black” Americans.

But there’s a serious identity crisis within the Mohajir community be it a general in the army or a ‘babu’ at the foreign office, or a butcher in Orangi town – it’s a community in search of its roots because in all ‘practicality’ and there’s a strong feeling that the ‘Mohajirs’ had been rejected by other ethnicities in Pakistan. Later, Altaf Hussain, the man who is credited to have given the Mohajirs a somewhat-political identity in a book titled “Safar-e-Zindagi” published in 1989, described Mohajirs as “those who migrated from smaller provinces of undivided Hindustan to Pakistan”.

The Partition was something no-one really wanted and it only became inevitable when the Congress leadership rejected the Cabinet Mission Plan after initially accepting it.

Mohajir identity has evolved through the years and transformed from being a right-wing Jamaat-e-Islami or JUI supported movement to a centrist ethno-political identity

Jinnah, the Quaid-e-Azam, could do no more than to console his countrymen, “We have been squeezed in as much as was possible and the latest blow that we have received is the Award of the Boundary Commission. It is an unjust, incomprehensible and even perverse Award. It may be wrong, unjust and perverse; and it may not be a judicial but a political award, but we have agreed to abide by it and it is binding upon us. As honourable people we must abide by it. It may be our misfortune but we must bear up this one more blow with fortitude, courage and hope.” Mohajirs migrated from as far as Calcutta, Malabar, Aurangabad, Amritsar, Patna and Ahmadabad and other Muslim minority provinces leaving not just “everything” but “everyone” behind.

Pakistan originally envisioned by Iqbal had no Bangladesh but only consisted of what is Pakistan now. The leadership of Pakistan later made sure that Pakistan would transform from Jinnah’s Pakistan to Iqbal’s Pakistan resulting in yet another partition that ruined the ideological basis on which the first Partition took place. And that is why the 1971 setback hurt the Mohajirs.

And there are warnings more such partitions are likely if the status quo does not change. Many Mohajirs, Sindhis, the Baloch, Pathans, and even Kashmiris will reach the point of no return. Islam could not eventually become a unifying factor for East and West Pakistan.

The 18th Amendment had been a good start of a new social contract which is not ground-breaking, but a start nevertheless.

Be it a general in the army or a ‘babu’ at the foreign office, or a butcher in Orangi town – it’s a community in search of its roots

But to save, Pakistan we need full provincial autonomy and nothing else. We should realise the gravity of situation in Baluchistan, Pakhtunkhua and Sindh where million’s are dying of hunger and the frustration against the state is at its height. Perhaps we need to take a breather, reflect on the situation, consider all our options, and then have a polite national debate, without the use of force, riots, Rangers, or street power, to decide if and how we can live together, or if we should go our separate ways.

During his rule, Zulfikar Ali Bhutto began to crush his opposition within Sindh. He started “Sindhisation” campaign and introduced the Language Bill in 1973-1974 making Sindhi language compulsory for all students in Sindh, a move which caused rioting in Sindh. During nationalisation move, Mohajirs believe only the businesses they owned were targeted. Similarly, they say the quota system deprived the deserving Mohajir the right to get into universities and jobs and hundreds of less educated and less competent people were appointed as schoolteachers.

The army inspired action against Mohajirs in the 1990s led to an exodus of many talented families from Karachi/Hyderabad. Hundreds and thousands of educated boys and girls were forced to migrate. They now feel secure and have no desire to return, and that leads to the impending problem with Karachi and Pakistan in general – the loss of valuable human capital. In what was called “Operation Clean-up”, more than 15,000 Mohajirs were murdered in extra-judicial killings in Karachi alone. Women were raped and were even seen carrying the bodies of their dead male relatives. The operation also ruined the economy of Karachi.

In an interesting study I carried out about Mohajir identity at various colleges and educational institutions for my upcoming book tracing the roots of Mohajir political movement and identity, 73% of adult student’s identified themselves as Mohajir first and Muslim second. This shows that Mohajir identity has evolved through the years and has transformed from being a right-wing Jamaat-e-Islami or JUI supported movement to a centrist or a left-wing ethno-political identity which surpasses religious identity. The MQM – which has now transformed into ‘Muthida’ but is in fact a Mohajir-centric party made to safeguard the rights of Mohajirs in Urban Sindh – is a clear example of this new identity.

And while the word Mohajir remains controversial and often used by lower classes, the middle and upper classes in the community tend to classify themselves as “Urdu Speaking”. For them, the term Mohajir represents the “hateful past”.

During my research work, I met MQM Rabbita Committee’s Kunwar Khalid Younas – one of the soft faces of MQM – who has been writing in English for years defending the MQM and coining or using terms like the “Urdu Speaking Community” or USC. But one sub-community, the Memons, do not agree, because Urdu is not their first language.

So where does the Mohajir identity stand today, and has it become weaker or stronger with time? Statistics of ethnic violence show that in a very polarised Karachi, Mohajir nationalism or identity has become stronger, except in the middle class.

The real issues that Pakistan faces today are poverty, illiteracy, and violation of human rights. And the people of Pakistan must realise that these are the issues political decisions should be based on. Mohajir nationalism will only weaken when the sense of equality and justice is restored in the society.

Ali Chishti is a TFT reporter based in Karachi. He can be reached at akchishti@hotmail.com 




US Efforts to encourage old heritage

امریکی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر دئے گئے ایک اشتہار، یو ٹیوب پر موجود ویڈیوز اور امریکی سفارتخانے کی ویب  سائٹ پر موجود معلومات سےانکشاف ہوتا ہے کہ پاکستان میں قدیم ہندو رسوم اور انتہائی متنازعہ امور کو پھیلانے اور مقبول بنانے کے لئے  امریکی سفارتخانہ   گزشتہ دس  برس سے ہر سال کروڑوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ امریکی سفارتخانے کا موقف ہے کہ پاکستان جس خطے میں موجود ہےاور جو علاقے پاکستان میں شامل ہیں وہاں  ماضی میں انتہائی  ترقی یافتہ قومیں آباد تھیں اور  ان کا ایک کلچر تھا جو اس علاقے کا اصل کلچر ہے اور امریکی سفارتخانہ اس قدیم اور اصل کلچر کو بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر دئے اعدادوشمار سےپتہ چلتا ہے کہ امریکی سفارتخانہ ایسے 17 متنازعہ ترین پروجیکٹس پر کام کررہا  ہے اور ان کے لئے فنڈز فراہم کررہا ہے جس سے پاکستانی معاشرے میں انتشار مزید پھیل رہا ہے، ان سترہ پروجیکٹس میں اکثر قدیم ہندو اور بدھ  مت رسوم اور تہواروں پر مشتمل ہیں اور پاکستانی معاشرے میں حال  ہی میں انہیں زور و شور سے منانے پر محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے۔ امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ کے مطابق ان میں سے ایک بسنت و بہار نامی تہوار ہے۔ ا مریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ یہ اس خطے کا قدیم تہوار اور ثقافت ہے اس لئے وہ اسے معاشرے میں رائج کرنے اور محفوظ کرنے کے لئے فنڈز فراہم کررہا ہے۔ انہیں سترہ پروجیکٹس میں  قدیم بدھ   دیوتائوں کے بت، قدیم مندر اور  دیگر  ایسے علاقائی تہوار شامل ہیں جو اب معدوم ہوچکے ہیں اور اگر انہیں بحال کیا جاتا ہے تو اس سے براہ راست پاکستانی تشخص اور  اسلامی کلچر پر اثر پڑتا ہے۔ امریکی سفیر کا  ایک کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی نہیں بلکہ علاقائی ثقافت کو محفوظ بنانے کے لئے کام کررہے ہیں اور انہیں اس کی اجازت اقوام متحدہ کا چارٹر دیتا ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر دئیے گئے اشتہار کا عکس امریکی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر دئیے گئے اشتہار کا عکس



{February 10, 2012}   HOW TO COPE WITH COLD WEATHER

Basically the human beings are hot animals and they can not bear cold weather.

Life disturb due to cold weather in most parts of the country

Therefore they have to make some adaptations like wearing warm cloths in order to adjust in the cold environment. For the humans to survive they need to produce enough body heat by in- taking large quantities of food and by controlling the loss of heat with the help of warm shelters and clothing.
A lowest temperature that a person can bear may vary from person to person but normally at 25 degrees a person may start feeling cold. Soon after shivering starts to occur and skin starts giving other responses as well.
These physical responses mean that a moderately fortunate full adult can maintain their temperature in still air above freezing point with light cloths. This mending of temperature becomes overmuch fractious in afoot air and also in blunt or wet conditions. If the extremities fall down the freezing level than a lasting harm may occur. The cooling essence of afoot air is suitable. Paul Siple of America explained that wind raises the rate of temperature loss.

His unique experiments were conducted in Antarctica in 1941 by evaluating how longer it took h2o to immobilize in baked beans tins in varied strengths of wind and at dissimilar temperatures.

The use of cool wind is used to guide the efficient temperature at a certain wind speed. For example in cold conditions a person wearing warm cloths may even be in a little danger. A light wind has the same effects as the temperature of -44 degrees when a person is exposed.
There are certain tips as well that may help you to cope with the cold temperature. The ones that are most common and helpful are to wear layer of cloths, take warm drinks and soups etc.



{January 16, 2012}   Arfa Karim-We Lost Another Genius

Arfa Kareem Randhawa

Arfa Kareem

This weekend will never be forgotten by any of those hearts having people of Pakistan and especially who understands the value of talent. The last evening brought a tragic loss for this country. You might be thinking about any political unrest in the country but it’s more than any other loss.

The youngest Microsoft Certified Professional, Arfah karim Randhawala lost her battle of life which she had been fighting from last 26 days at Combined Military Hospital (CMH), it was really a dark and sad evening for Pakistanis. It was one of the greatest losses for the Pakistan and whole I.T industry.

I don’t know what should be said to express my feelings and condolences as I am not that good enough that our hybrid politicians are who didn’t showed aa 1% of interest and concern for this multitalented girl when was on ventilator, fighting the battle of life and death. And she passed away our so called leaders didn’t missed the chance to make this sad demise a golden chance for their politics.

May the soul of that beautiful angel rest in peace and May Allah give her parents and relatives patience and peace. That pride of Pakistan will never be forgotten by the people of Pakistan. And she will always be there with us in our heart.  I hope and pray to Allah that O Lord please give some sense of humanity to our leaders so that any talent and pride of Pakistan won’t have to loose their battles of life like this girl did. Life and death is not in the hands of any human but still we are not fulfilling what we have in our hands.

Arfah Karim, We Will Miss You..!!!!



{December 17, 2011}   Open Letter to Mr. Nawaz Sharif

Nawaz Shareef

Preseident PML(N)
Raiwind, Lahore, Pakistan

Dear Mr. Shareef
First of all please accept my congratulations on being elected as party president unopposed. This indicates the trust your workers have in your kindself. However
I want to inform you (although you must be aware of it) about the deep concerns of Oversees Pakistanis about the day by day growing relations of PMLN with notorious Terrorist Organizations like Taliban, Sipah e Sahaba and now Laskar e Jhangvi as well.

PMLN is one of the biggest political parties in Pakistan and we want to see it growing day by day through legal and democratic means.
For the last 1 year, there have been dramatic changes in your party’s policy about joining hands with the organisations, banned by previous Governments (including your own Government as well) due to their involvement in terrorism against the state and people.

Firstly there was a “Verbal Move” by your brother and CM Punjab saying “We and Taliban have the SAME goal” whilst every Pakistani knows Taliban are being funded by anti Pakistan powers to weaken Pakistan on one hand and blot the sacred name of Islam on the other hand by their Satanic activities.

Then PMLN drew a shameful agreement with Sipah e Sahaba in June 2008 bye elections while Mr. Shahbaz Shareef was to be elected “Unopposed” from PP 48, Darya Khan, Bhakkar. Molvi Abdul Hameed of Sipah e Sahaba with drew in his favour in exchange for an assurance for releasing all the mass killers and blood thirsty terrorists including Ghulam Rasool Shah and Malik Ishaq which by no chance could be released without the involvement of Government.

Thursday, July 14 was a “Black day” for each Pakistani when Malik Ishaq was released with 100s of bullets fired outside the Jail to give him a “Red Carpet Welcome” by the Punjab Government. All other terrorists had already been released as the government did not peruse their cases. Ishaq himself had acknowledged in Papers to kill more than 100 innocent Pakistanis in target killings, bomb blasts and attack in Mosques. He was also involved in killing of Iranian Diplomats and “Organized” an attack on Sri Lankan Cricket Team, certainly due to the facilities provided to him by the Punjab Government within the Jail. He further managed to kill 8 witnesses against him one by one while he was “under trial” in the so called “Courts” and on each killing, the government acted as a “Silent Spectator”.

The recent news is that your nephew Hamza Shahbaz is to contest from Jhang District, and Shahbaz Government as an exchange would facilitate the release of some more mass killers from the Jails by not persuing their cases and “Gifting” a seat in Senate to Molvi Ludhanvi who is the master mind of most terrorist activities being carried out in Pakistan.
Mr. Shareef!

While the “unchallenged” (rather state sponsored) terrorism is the biggest problem in Pakistan and the poverty strickenpeople are having blood baths every day, PLEASE do not leave the people on mercy of these blood thirsty terrorists.

PLEASE do not embrace these enemies of Islam, Pakistan and the people of Pakistan in an attempt to grab few votes.
PLEASE do not release any more terrorists; we cannot see the innocent blood running in the streets shed by your allies SSP, Taliban and Lashkar e Jhangvi.

The major support for PMLN comes from the business class which is most effected by the terrorism
I do hope Mr. Shareef, as a shroud politician, you would reconsider your party policy and adopt a rightful and democratic path instead of joining the terrorists and indulging into terrorism.
Fire is fire; it kills EVERY ONE

Yours sincerely




In 1995, a former ISI official told reporters that he had arranged meetings between Nawaz Sharif and Osama bin Laden. Nawaz Sharif was allegedly looking to bin Laden to help fund his 1988 campaign for Prime Minister, and was willing to say anything to get it.

“Nawaz Sharif insisted that I arrange a direct meeting with the Osama, which I did in Saudi Arabia. Nawaz met thrice with Osama in Saudi Arabia. The most historic was the meeting in the Green Palace Hotel in Medina between Nawaz Sharif, Osama and myself. Osama asked Nawaz to devote himself to “jihad in Kashmir”. Nawaz immediately said, ‘I love jihad.’ Osama smiled, and then stood up from his chair and went to a nearby pillar and said, ‘Yes, you may love jihad, but your love for jihad is this much.’ He then pointed to a small portion of the pillar. ‘Your love for children is this much,’ he said, pointing to a larger portion of the pillar. ‘And your love for your parents is this much,’ he continued, pointing towards the largest portion. ‘I agree that you love jihad, but this love is the smallest in proportion to your other affections in life.’”

This wasn’t the last we heard of Nawaz Sharif’s friendship with Osama bin Laden. In 2007, ABC News reported that Sharif took bribes from bin Laden to look the other way as militants carried out their plans in Pakistan.

Cloonan says that back in 1999 Mohamed told the FBI he arranged for a meeting between bin Laden and Sharif’s representatives. Following that meeting, Mohamed told Cloonan he delivered $1 million to Sharif’s representatives. Mohamed said the payoff was a tribute to Sharif for not cracking down on the Taliban as it flourished in Afghanistan and influenced the Northwest Frontier Province in Pakistan, according to Cloonan.

New evidence has surfaced, though, that suggests those meetings were merely the beginning of a long relationship between Nawaz Sharif and Osama bin Laden.

Nawaz Sharif, a two-time former prime minister of Pakistan and current head of one of the country’s major political parties, has met with Osama bin Laden on numerous occasions, and it was in fact the al Qaeda leader who developed the relationship between Sharif and the Saudi royal family, says a former Pakistani intelligence official.




“We in Saudi Arabia are not observers in Pakistan, we are participants.”

Saudi Arabia is the third largest state in Middle East, biggest oil supplier in the world, extremely close and loyal ally of USA, staunch rival of Iran and finally supposedly time tested friend of Pakistan.
Saudis have been playing very active role in Pakistan from the day they recognized her as an independent Islamic state in 1947. From acquiring of nuclear technology in Bhutto era (funding) to the testing of nuclear warheads in Nawaz Sharif era (they promised to support Pakistan’s economy after the tests) Saudis proved their loyalty. On the other hand Pakistan also tried her level best in strengthening the bilateral relations of the two states. From flying of Saudi aircraft in 1969 to the episode of seizure of Holy Kaba, Pakistan also showed their metal.
After USA, undoubtedly Saudi Arabia is the major socially, religiously and politically contributing factor in Pakistan either positively or negatively. Though nowadays her negative factors are more clearly showing their effects on Pakistani society. Even Wiki leaks gave evidence of this symbiotic relationship, when Saudi Ambassador, Adel al-Jubeir, was showing off in front of USA Ambassador,

“We in Saudi Arabia are not observers in Pakistan, we are participants.”

Pakistan is paying a very heavy price for this relationship in the form of ongoing sectarianism, extremism, Talibanization of Pakistan and constant political chaos as they keep on supporting corrupt politicians of the state.
Throughout history Saudi Arabia’s main focus in their foreign policy was on the spread of Wahabism and containing of influence of Iran in Muslim world. They make huge donations from USA to developing states around the globe with one condition that they will be allowed to send their preachers and scholars to preach their Wahabist ideology. They provide funds for building mosques and research centers. Wahabis are devoted believers of force or extremism in Islam.
Madrassa system of Pakistan based on Wahabist ideology was completely funded by the Saudis. Young boys were taught glorified image of jihad and even were physically trained for the future purpose of jihad. Taliban were the direct outcome of this Madrassa system. They support and propagate Terrorism which is against the teachings of Holy Prophet (PBUH) who actually taught, peace and harmony.
Saudi Arabia funds extremist activities all around the globe especially Taliban in Pakistan. The former Director of CIA James Woolsey described Saudi Arabian Wahabism as “the soil in which Al-Qaeda and its sister terrorist organizations are flourishing.” Until recently they themselves had to suffer extremist activities in their own state, they pulled back a bit but still all the global Saudi charities, which are headed by the Saudi cabinet ministers, are still actively fanning radicalism.
Pakistan is a victim of proxy war of two Middle Eastern states. As Iran supporting the Shiite Muslims of Pakistan and Extremist groups of Sunnis, being supported by Saudis, gave rise to the sectarianism in Pakistan, resulting in total wipe out of the highly skilled and educated lot of Pakistan, like doctors, scholars and even high profile political figures. This proxy war especially accelerated after the Iranian revolution, Saudis wanted to contain their influence in Middle East. During 80s and 90s they funded many extremist organizations for instance Sipah-e-Sahaba Pakistan (SSP) which started propagating against the shiites in Pakistan. In response Iran funded Tehreek-e-Fiq-e-Jafariya.
This interference not only paved the way for many more coming future extremist cells and groups but also gave rise to the Taliban regime (current disastrous turmoil of the state). That ongoing war between both states neither affected Iran nor Saudi Arabia but it destroyed the peace and social infrastructure of Pakistan. Saudis are even not satisfied with President Zardari as he wants to maintain good relations with Iran. Saudis are scared of Pakistan, Iran and Iraq (under Shia authority) triangle. Saudis also called him “rotten head.” Shows the state of mind of the Saudi regime.
Saudi Arabia is playing active role in Pakistani politics as well.One of its main examples was bailing out of Nawaz Sharif from the hands of Musharaf. He and his family was not even given political asylum but also provided with business license, main reason behind the Sharif family’s complete allegiance to Saudi Arabia, they not only saved his neck but his economic interests are also tied to the Saudis. Now Sharif brothers keep their eyes closed over the jihadi activities and invisibly support them.
Saudi Arabia, constantly supports the corrupt and dishonest politicians of Pakistan. Whenever there is a deadlock, case is referred to Saudis, as ultimate authority. Saudis are enjoying the status of puppet masters causing worst political turmoil resulting Pakistan to lose its prestige and honor in international platforms. Ironically, they themselves also do not trust these politicians, during flood crisis, they gave aid to the flood victims in the form of food and other daily use articles instead of liquid money, even this was made possible when General Kiyani himself went to Saudi Arabia and gave his guarantee.
Recently, it’s being speculated that being a close ally of USA Saudi Arabia played the role of mediator in deal between USA and the families of the victims of Raymond Davis case, though Saudia denied it but PM Gilani gave the hint of Saudis’ involvement. Again this was a direct hit on the sovereignty of the state. Though this was the case of Punjab government, Shabaz Sharif referred it to the federal authority and they to Supreme Court and one day before his release Nawaz Sharif suddenly left for UK in pretext of bad health conditions. Ironic still Saudis deny their involvement.
This over all analysis of the current relation shows that now Saudis are interfering way too much, first it was only being run by USA now Saudis are also deeply involved. Saudis’ positive contribution cannot be neglected or forgotten but we need some space. We need some air to breath. This constant involvement is causing Saudi Arabia to lose her good reputation in Pakistan. People know how deep USA and Saudi relations go and most of the time it is speaking the language of USA on Pakistan’s part.


et cetera
%d bloggers like this: