Youth Awareness












بسم اللہ الرحمن الرحیم

آئے دن رپورٹ ہوتی ہے کہ آج ایک پاکستانی نے فلاں کارنامہ/ایجاد کر کے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ کئی بار مجھے لگتا ہے کہ بالکل معمولی معمولی باتوں پر ہمارے سر فخر سے بلند اور اسی طرح معمولی سی بات پر شرمندگی سے جھک بھی جاتے ہیں۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ”چڑی موترے تے کانگ“ یعنی چڑیا پیشاب کرے تو سیلاب۔ جب لوگ معمولی معمولی باتوں سے بڑے بڑے نتائج اخذ کرنے لگ جائیں تو وہاں یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کیا عجب تماشہ لگا ہوا ہے۔ جیسے معمولی سی بات پر ہمارا سب کچھ خطرے میں پڑ جاتا ہے بالکل ویسے ہی ”چڑی موترے“ تو ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا آپ لوگوں کو میری ان باتوں پر غصہ آ رہا ہو لیکن کبھی ہم نے اپنے میڈیا، انقلابیوں اور ”ایجادیوں“ پر غور کیا ہے کہ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟ میڈیا کی رپورٹوں پر غور کریں تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سارے نہیں تو کم از کم نوے فیصد ”بلنڈر“ ضرور ہیں۔ اگر کوئی حقیقت بیان کرے تو یار لوگ کیا کہتے ہیں اس پر ایک علیحدہ تحریر ہو گی۔ فی الحال موضوع کچھ اور ہے۔

ہاں تو میں بات کر رہا تھا، میڈیا اور ایجادیوں کی۔ میڈیا اور ایجادیوں کے تماشوں کی چند مثالیں دیتا ہوں اور ساتھ میں حقیقت کیا ہے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے غالباً پچھلے رمضان (2011ء) میں ایک صاحب جیو نیوز چینل پر آئے اور اتنے دھڑلے سے جھوٹ بول رہے تھے کہ جن کو دیکھ کر شرمائیں یہود و ہنوز۔ بات قرآن پاک کے تلاش والے اردو سافٹ ویئر کی کر رہے تھے کہ یہ پہلا سافٹ ویئر ہے، اس جیسا آج تک نہیں بنا، یہ امت مسلمہ کو میری طرف سے رمضان میں تخفہ ہے۔ اگر لوگ تعاون کریں تو میں اس سے زیادہ اچھا اور احادیث کا سافٹ ویئر بھی بنا دوں گا (لنک)۔ اینکر کامران خان نے اس بات پر انہیں پتہ نہیں امت مسلمہ کا کیا کیا بنا دیا۔ حد ہو گئی یار۔ ٹھیک ہے آپ نے قرآن پاک کا سافٹ ویئر بنایا ہے۔ اچھا کام کیا ہے لیکن اتنے جھوٹ تو نہ بولو اور جنہوں نے تم سے پہلے کئی ایک زبردست سافٹ ویئر بنائے ہیں اور بغیر کسی دنیاوی لالچ کے ان کو دیوار سے تو مت لگاؤ۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ کوئی زاہد حسین نامی صاحب تھے اور ان سے پہلے کئی ایک اور ان کے سافٹ ویئر سے زیادہ معیاری سافٹ ویئر موجود ہیں، جیسے ایزی قرآن و احادیث اور نور ہدایت وغیرہ۔

آج کل ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے، گویا اس بارے میں ایک چھوٹی سی شرلی چھوڑ دو تو سارے کام ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک رپورٹ دیکھی جس میں ایک صاحب ٹیوب ویل کے پانی کے بہاؤ سے بجلی بنا رہے تھے اور نتیجہ میں ایک ایل ای ڈی (LED) روشن تھی۔ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر حکومت تعاون کرے تو میں ملک کو بجلی کے بحران سے نکال سکتا ہوں۔ او خدا کے بندے پہلے جو تربیلا اور منگلا پاور ہاؤس چل رہے ہیں وہ بھی تو اسی تکنیک پر چل رہے ہیں تو تو نے کونسا نیا تیر مارا ہے۔ ویسے بھی کئی ہارس پاور کی موٹر سے، تو ٹیوب ویل چلا رہا ہے اور پھر نتیجہ میں ایک ایل ای ڈی۔ حد ہو گئی جہالت کی۔ اس طرح کی ایل ای ڈی تو جتنی وہی ٹیوب ویل والی موٹر حرارت چھوڑ رہی ہے، اس سے جلائی جا سکتی ہے۔ ویسے بھی پانی کے بہاؤ کی حرکی توانائی سے بجلی بنانے کے ایک ہزار ایک طریقے دنیا میں رائج ہیں تو پھر تو نے کونسی نئی تکنیک ایجاد کی جس وجہ سے تو اتنا اترا رہا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میں بھی اپنے ٹیوب ویل پر ایسا ”پروجیکٹ“ تیار کروں بلکہ ہمارے پاس تو اتنا بڑا دریائے چناب ہے۔ سو دو سو روپے کا ایل ای ڈی چلانے والا چھوٹا سا جنریٹر مل جائے گا، بس پھر پانی سے اسے گھماؤ گا اور مشہور ہو جاؤں گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا پر آنے کے لئے ایک کنال زمین بھیجنی پڑے گی کیونکہ میرے پاس نہ تو کوئی سفارش ہے اور نہ ہی اتنے پیسے۔

ایک رپورٹ میں تھا کہ ایک صاحب نے جدید قسم کا جنریٹر تیار کر دیا۔ وہ صاحب کر یوں رہے تھے کہ انہوں نے گاڑی کی ڈِگی میں ایک بیٹری رکھی ہوئی تھی اور اسے گاڑی کے جنریٹر سے چارج کر رہے تھے۔ پھر اس بیٹری کے آگے انورٹر لگا کر پنکھا چلا رہے تھے۔ کر لو گل! ہو گیا جدید قسم کا جنریٹر تیار۔ یہ رپورٹ دیکھ کر میرا دل کر رہا تھا کہ زور زور سے چیخیں ماروں، اپنے میڈیا کی جہالت پر ماتم کروں اور میڈیا والوں کو کہوں کہ خدا کا خوف کرو، پہلے ہی دنیا میں ہماری بڑی بے عزتی ہو رہی ہے اب اس انداز سے تو نہ کرواؤ۔ اگر یہ رپورٹ کسی دوسرے ملک کے اردو سمجھنے والے، تھوڑے سے تکنیکی بندے نے دیکھ لی تو وہ ہر فورم پر ہماری جہالت پر ہنسے گا، کیونکہ ایسے کام اب بچوں کا کھیل ہیں اور تم اسے ”جدید قسم کا انوکھا جنریٹر“ کہہ رہے ہو۔

پچھلے دنوں ایک صاحب کا بہت چرچا ہوا جن کے دے انٹرویو پر انٹرویو اور رپورٹوں پر رپورٹیں کہ جناب نے پانی سے گاڑی چلائی ہے۔ میں اور میرے دوست غلام عباس نے سوچا ہو سکتا ہے کہ اس نے پانی میں سے آکسیجن اور ہائیڈروجن علیحدہ علیحدہ کرنے کا کوئی نیا اور زبردست طریقہ ایجاد کر لیا ہو۔ خیر ہم اس بندے کو ملنے گئے۔ سارا دن کی کھجل خرابی کے بعد اس کے گاؤں پہنچے۔ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔ کوئی پانی سے گاڑی نہیں چل رہی تھی بلکہ وہی انیسویں صدی والی تکنیک استعمال کر کے بالکل معمولی سی ہائیڈروجن حاصل کی جا رہی تھی جو پٹرول کے ساتھ ملا کر جلائی جا رہی تھی تاکہ انجن کی تھوڑی طاقت زیادہ ہو جائے۔ اب پتہ نہیں طاقت زیادہ ہوئی بھی تھی یا نہیں لیکن پانی سے انجن/گاڑی چلانے والا سیدھا سیدھا جھوٹ تھا۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میڈیا نے اس کی اتنی جھوٹی تشہیر کیوں کی لیکن اس بندے سے مل کر ایک بات واضح ہوئی کہ وہ بندہ بذاتِ خود بہت اچھا تھا، درد دل رکھنے والا انسان ہے اور پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ اس نے خود میڈیا کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہمیں بہت تنگ کیا ہے۔ باقی اس نے خود مانا کہ پانی سے گاڑی نہیں چلائی جا رہی بلکہ مجھے انجن کی تھوڑی زیادہ طاقت چاہئے تھی تو میں نے اس کے لئے ہائیڈروجن والا طریقہ سوچا۔ مگر ہمارے میڈیا نے تو وہ گاڑی سو فیصد پانی سے چلوا دی تھی۔

پچھلے دنوں ایک اور شور مچا ہوا تھا کہ سوات کے نوجوان نے پانی سے جنریٹر چلا کر بجلی بنا دی۔ جس میں کہا گیا کہ اس نے پانی سے انجن چلایا اور پھر اس انجن سے بجلی بنانے والی ڈینمو گھمائی۔ اب ایک اور شوشا بڑے عروج پر ہے، اس بار تو حد ہی ہو گئی۔ وزیراور بڑے بڑے اینکر اور تو اور کئی اہم شخصیات جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کے چیرمین ڈاکٹر شوکت پرویز بھی اس کھیل میں اس ”شوشے“ کے حق میں کود چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن فی الحال اس ”ایجاد“ کو کچھ اس طرح نہیں مان رہے کہ ان کا خیال ہے کہ ایک تو اس کی اچھی طرح جانچ ہونی چاہئے اور دوسرا یہ کہ اس طرح پانی سے گاڑی چلنا ناممکن ہے کیونکہ یہ سائنس کے بنیادی اصول توانائی کی ایک حالت سے دوسری میں تبدیلی اور تھرموڈائنامکس کے پہلے قانون کے خلاف ہے۔

پانی سے گاڑی چلانے والے بندے آغا وقار کا کہنا ہے کہ بس اس کی بنائی ہوئی ”واٹر کِٹ“ میں صرف خالص پانی ڈالتے جاؤ تو گاڑی چلتی رہے گی۔

میں سائنس کا کوئی ”راکٹ سائنس“ طالب علم نہیں مگر حیران ہوتا ہوں کہ ایسی معمولی باتیں میں جانتا ہوں تو ان ”وڈے“ لوگوں کو کیا نہیں پتہ، یا کہیں ایسا تو نہیں کہ ”سب مایا ہے“ کیونکہ یہ جو پانی سے انجن چل رہے ہیں اس طریقے کی تفصیل تو میڑک کا طالب علم بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

خیر آپ کو اس کی تھوڑی سی حقیقت بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔

پانی سے انجن چلانے کے لئے فی الحال صرف ایک طریقہ ہے کہ پانی کی برق پاشیدگی (Electrolysis) کی جائے اور اس میں سے ہائیڈروجن حاصل کر کے اسے ایندھن کی جگہ انجن میں جلایا جائے یا پھر کسی اور طریقے سے اسی ہائیڈروجن کو استعمال میں لایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں پانی سے ہائیڈروجن حاصل کر کے اس سے انجن چلایا جا سکتا ہے اور ہمارے ”ایجادیئے“ ایسا ہی کر رہے ہیں، مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ پانی سے ہائیڈروجن حاصل کرنے پر کتنی توانائی لگے گی اور نتیجہ میں ہمیں کتنی توانائی ملے گی؟ ہائیڈروجن حاصل کرنے پر جتنی لاگت آئے گی کیا موجودہ ایندھن جیسے ڈیزل اور پٹرول وغیرہ سے سستی ہو گی؟

اس طریقے میں سب سے پہلا مرحلہ ہے پانی کی برق پاشیدگی۔ توانائی کے سائنسی اصولوں کے مطابق اگر سب کچھ آئیڈیل ہو تو پانی کی برق پاشیدگی پر جتنی توانائی خرچ ہو گی، پانی سے حاصل ہونے والی ہائیڈروجن آگسیجن کے ساتھ جل کر اتنی ہی توانائی دے گی۔ عام طور پر پانی کی پاشیدگی کے لئے بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ دنیا میں فی الحال ایسے آئیڈیل حالات تیار نہیں ہوئے لہٰذا جتنی توانائی برق پاشیدگی پر لگے گی اس کا کچھ حصہ حرارتی اور دیگر توانائی کی اقسام میں تبدیل ہو جائے گا اور یوں حاصل ہونے والی ہائیڈروجن جتنی توانائی دے گی اس سے زیادہ توانائی برق پاشیدگی اور دیگر کاموں پر پہلے ہی لگ چکی ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ فرض کریں کسی نے کوئی آئیڈیل حالات بنا بھی لئے ہوں (جوکہ کم از کم زمین پر فی الحال ناممکن کے قریب تصور کیا جاتا ہے) تو پھر بھی جتنی توانائی پانی کی برق پاشیدگی پر لگاؤ گے نتیجہ میں اتنی ہی توانائی ہائیڈروجن کو جلا کر حاصل ہو گی۔ اب آپ ہائیڈروجن سے انجن چلا کر اس سے گاڑی کا پہیہ گھماؤ یا پھر بجلی بنانے والی ڈینمو، یہ آپ کی مرضی مگر پانی کو توڑنے (پاشیدگی) پر جتنی توانائی لگا رہے ہو اتنی ہی توانائی حاصل کر پاؤ گے۔

اب جیسے پاشیدگی کے لئے بجلی کا استعمال ہوتا ہے تو اگر سب کچھ آئیڈیل ہو تو پھر برق پاشیدگی سے حاصل ہونے والی ہائیڈروجن کو استعمال کرتے ہوئے ہم اتنی ہی بجلی بنا پائیں گے جتنی کہ برق پاشیدگی پر لگائی تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جتنی بجلی لگائی، اتنی ہی حاصل ہوئی۔ اسی طرح اگر ہم انجن چلانے کے لئے پانی کی پاشیدگی پر جتنی بجلی لگاتے ہیں اگر اتنی ہی بجلی سے موٹر چلائیں تو وہ بھی انجن جتنا ہی کام کرے گی۔

پانی سے ہائیڈروجن حاصل کر کے انجن تو چل گیا مگر ہائیڈروجن حاصل کرنے پر جو بجلی لگائی ہے وہ کہاں سے آئے گی؟ اس بجلی کی جتنی قیمت ہو گی کیا اس سے سستی ہائیڈروجن ویسے ہی مارکیٹ سے نہیں مل جائے گی؟ کیا ہائیڈروجن کی ٹرانسپورٹ موجودہ ایندھن (پٹرول اور ڈیزل) جتنی آسان ہو گی؟ کیا ہائیڈروجن سے سستا ایندھن پہلے موجود نہیں؟

جب ہم ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ پانی کی برق پاشیدگی کرنے والے طریقے پر موجودہ ایندھن کی نسبت زیادہ خرچ آتا ہے اور اس طریقے سے سستے اور آسان طریقے پہلے ہی دنیا میں رائج ہیں۔ عام لوگ بس یہی دیکھتے ہیں کہ لو جی پانی سے انجن/گاڑی چل گئی مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ پانی کو کن کن مراحل سے گزارا گیا ہے اور اس پر خرچہ کتنا آیا ہے۔ آج کل جو بندہ آغا وقار بڑا مشہور ہوا ہے میرا اس بندے سے سوال ہے کہ
پانی کی برق پاشیدگی پر جو بجلی لگ رہی ہے وہ کہاں سے آئے گی؟
جواب:- گاڑی میں موجود بیٹری سے۔
گاڑی کی بیٹری کیسے چارج ہو گی؟
گاڑی کے جنریٹر سے۔
جنریٹر کیسے گھومے گا؟
گاڑی کے انجن سے۔
انجن کیسے چلے گا؟
ہائیڈروجن سے۔
ہائیڈروجن کہا سے آئے گی؟
پانی کی برق پاشیدگی سے۔
پانی کی برق پاشیدگی کیسے ہو گی؟
بجلی سے۔
بجلی کہاں سے آئے گی؟
گاڑی کی بیٹری سے۔
افف ف ف ف ف ف ف۔۔۔ یا میرے خدا ہم پر رحم کر۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے خود ہی سوال کیے اور خود ہی جواب لکھ دیئے۔ مگر ایسا نہیں سوال میرے ہیں جبکہ جواب آغا وقار کے ہی ہیں کیونکہ وہ یہ جواب مختلف پروگراموں میں دے چکا ہے۔ خیر آغا وقار کے بنائے ہوئے نظام میں صرف ہمیں پانی ڈالنا ہے۔ بس پھر گاڑی کی بیٹری سے پانی کی برق پاشیدگی ہو گی اور پھر عمل چالو ہو جائے گا یعنی ایک چکر چل پڑے گا جس میں صرف پانی ڈالتے جاؤ۔ یقین کرو اگر واقعی ایسا ہوا تو پوری دنیا بدل جائے گی اور اس طریقے سے دنیا بدلنے کی کوشش سو دو سو سال پہلے ہی سیانے لوگ کر کے تھک ہار چکے مگر آغا وقار :-)

یارو! تیاری پکڑو! بس اب اس بندے آغا وقار کے حق میں بولنے یعنی اس کی ”ایجاد“ کو ماننے والے یعنی سب سے پہلے ہمارا میڈیا اور پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر شوکت پرویز اور کئی وڈے لوگوں کی واٹ لگنے والی ہے کیونکہ انہوں نے آن دی ریکارڈ سب کچھ کہا ہے :-) یا پھر سائنس ایک بہت اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے اور ایسا ”یوٹرن“ لے گی کہ ساری کائنات ”ٹرنوٹرن“ ہو جائے گی۔ آج کی فزکس منہ کے بل گرے گی۔ فزکس کے تمام نوبل انعام آغاوقار کو مل جائیں گے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان کہلائے گا۔ یورپ، امریکہ اور ساری دنیا پاکستان کی مقروض ہو جائے گی۔ شاید آپ کو یہ باتیں مذاق لگ رہی ہوں مگر جناب اگر آغا وقار کے طریقے سے گاڑی چل گئی اور صرف پانی سے چلتی رہی تو پھر واقعی یہ دنیا کی عظیم ترین ایجاد میں سے ایک ہو گی اور اس سے واقعی دنیا بدل جائے گی۔ (دیوانے کا خواب)

خیر میں تو کہتا ہوں کہ اس بندے آغا وقار کو سخت سے سخت سیکیورٹی میں رکھا جائے کیونکہ اگر اسے کچھ ہو گیا تو لوگوں نے کہنا ہے کہ دیکھا ایک ”عظیم سائنسدان“ کو مروا دیا گیا ہے۔ خیر اس کے بنائے ہوئے نظام کی مکمل جانچ کی جائے اور فراڈ ہونے کی صورت میں اس کی بجائے ہمارے میڈیا کو الٹا لٹکا کر لتر مارنے چاہئے جو بغیر تحقیق کے باتیں کرتے پھرتے ہیں اور اس جیسے بندے کو اتنا منہ زور کر دیتے ہیں کہ وہ اچھے بھلے ڈاکٹر عطاء الرحمن کی بے عزتی کرتا پھرتا ہے۔ اور اگر یہ واقعی سچ ہوا تو پھر لات مارو پوری فزکس کو اپنی نئی فزکس تیار کرو۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک عام پاکستانی اس بات پر بڑا جذباتی ہو رہا ہے کہ دیکھو ایک پاکستانی سے کتنی بڑی ایجاد کر دی۔ اے میرے پاکستانی بھائیو! خدارا کچھ ہوش کے ناخن لو۔ ہر چیز کو جذبات کے آئینے سے نہ دیکھا کرو بلکہ حقیقت کو پہچانو۔

دنیا میں بہت کچھ نیا ہوا ہے۔ سائنس نے کئی جگہوں پر یوٹرن لیا ہے۔ مگر یہ بندہ آغا وقار جو دعوہ کر رہا ہے اس پر میرا ذاتی خیال پوچھو تو میں اس طرح پانی سے گاڑی چلنے والی بات کو نہیں مانتا کیونکہ میری تحقیق کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، یاد رہے پانی سے گاڑی چل سکتی ہے مگر اس پر خرچہ ڈیزل یا پٹرول سے زیادہ آتا ہے۔ باقی پھر کہوں گا کہ میں سائنس کا کوئی ”راکٹ سائنس“ طالب علم نہیں اس لئے میں غلط بھی ہو سکتا ہوں۔ اجی میں کیا ہوں، اب تو جو صورت حال بن چکی ہے وہاں تو اچھے اچھوں کی واٹ لگنے والی ہے۔ مگر شرط ہے کہ آپ لوگ نہ بھولیے گا۔

میرا مقصد مایوسی پھیلانا یا اپنے پیارے پاکستانیوں کے کارناموں کو غلط ثابت کرنا نہیں، بس یہ کہتا ہوں، اللہ کا واسطہ ہے کہ پہلے کوئی کارنامہ کرو تو سہی۔ ”ایجادی“ کی بجائے موجد بنو۔ جاہل میڈیا کے بل پر عام عوام کو جاہل نہ بناؤ۔ ”کارنامے“ بلکہ میں تو انہیں کرتوت کہوں گا، کرتوت ایسے ہیں کہ جن پر سینہ چوڑا کرنا تو دور کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پاکستانیوں کو عقل دے اور ہم حقیقی معنوں میں کچھ ایجاد کر دنیا کو حیران کر دیں اور اپنے ملک کو ترقی دیں۔۔۔آمین

 

 

 

Advertisements



Open Letter to All Pakistanis

Dear Friends,

unexpectedly, i received an email from someone i know for few months only, and that too on internet (Facebook) only, in email he said sir this is my request to you please post my email (As it is) on your blog, because this is not only my first writeup to any medium (Paper & electronic media) but also very important one too. So friends, i am copy/pasting his email without editing, if anyone feel offensive in it or hurted by the details given, please forgive me.

Mohtaram Pakistanio

Asslam-o-alaikum

Hamare haan ki siyasat kuch is tarhan se hamare andar rach bas gayee hai k na chahte hue bhi hamari zindagion ka aik bara hissa siyasat ki

Imran Khan & his politics

nazar hogaya hai, har mor par hamen is baat ka andaza hota hai k ham jis mahol mein reh rahe hain wahan shareef, izzatdar aur sachai k lie jan de dene wale logon k lie jeena mohal hochuka hai. . .

November 22, 2011, khana khane k bad kuch waqt mila to socha k kuch halat-e-hazra k bare mein jan lia jae, isi ni’at se geo ki website kholi to jo pehli khabar parhne ko mili wo Imran Khan saheb k bare mein thi, jis mein likha tha Imran Khan saheb ki siyasi jamat k Lahore mein waqay daftar ko ba’waja adam adaigi tax, seal kardia gaya hai. Sun kar boht afsos hua kio k Imran Khan saheb ka naam aate hi world cup 1992 ki yadain taza hojati hain, meri nazar mein Imran Khan ki shaksiyat aik boht hi izzat ki hamil shakhsiyat ki hamil hai. khas tor par Imran Khan saheb ne Pakistan ki riwaiti siyasat k khilaf jo ailan-e-jang kia aur tamam quaideen ko apne asane zahir karne ko kaha.

Mere zehn mein jo pehla khayal jo aya wo yahi tha k shayad Pakistan Muslim League (N) ne hameshan ki tarhan PTI k wajood se inkar karte hue siyasi rassa kashi ki shurwat kardi hai aur ye waqya ussi silsilay ki aik karri hai, lekin haqeeqat maloom hone par afsos hua k jo shakhsh dusron ko talqeen karta hai k apne asasay zahir karo, tax do, chori na karo, wo khud apni party office k lie tax ada nahin karta ?

Ye sab waqiyat apne samne dekh kar Pakistan ki 18 crore awam ki tarhan shayad mein khamosh beth jata aur bas siyasi dangal ki numaish dekhta rehta lekin jis cheez ne mujhe qalam uthane par majboor kia uska is pure waqiyay se gehra talluq hai . . .

Abhi kuch dair pehle jab mein apne facebook account ko dekh raha tha to Kamran Khan saheb k page ko visit karte waqt meri nazron se aik aisi cheez guzri jisse dekh kar pehle to mujhe khushi hui lekin jab mere zehn se PTI office wala qissa guzra to mein hairan reh gaya . . .meine dekha k Pakistan Tehreek-e-Insaaf k kisi ohdedar ne “Facebook Advert” lagaya hua tha membership k lie…yehan mein aap ko batata chaloon k “Facebook Advert” ki sahoolat hasil karne k lie hamen google walon ko 35$ rozana ki bunyad par ada karne hote hain aur kam se kam muddat aik mahinay ki hoti hai jis ka total kharcha $1050 aur Rs. 92137.5/- hota hai yani k aik “Facebook Advert” chalane k lie Pakistan Tehreek-e-Insaf aur un k leaders Rs. 3071.25/- per day facebook walon ko de rahe hain sirf logon ko PTI ki taraf raghib karne k lie jo k aik yahoodi lobby hai jab k aise kai adverts PTI k handard aur leaders facebook par chala rahe hain jin par lakhon rupay rozana kharch kie jarahe hain. Dusri taraf almia ye hai k Hukumat-e-Pakistan ko property tax nahin dia ja raha ….aik aisa tax jis se Pakistan k awam k lie falah-o-behboob k kaam kie jane hain . . .

Ye sab haqaiq yaqeenan hamare lie lamha-e-fikria hain aur hamen sochne par majboor karte hain k hamare qol-o-fail mein itna tazad kio hai ? akhir kio ham apni hi bholi bhali awam ko bewaqoof bana kar apne mazmoom azaim ko pura karte hain, wo kon hai jis k isharon par ye sari karwai’yan hoti hain ….wo kon hai jo itna paisa faraham karta hai in logon ko . . .aur agar itna paisa hai to kio ham apni awam ko uska faida nahin dete ? kio bhooka marne dete hain ? kio apni pak sarzameen par mojood pahar jaisa qarz nahin utarte ?

Yaqeenan ye wo chubhte hue sawalat hain jin ka jawab dena koi siyasatdan pasand nahin karega …aur ham awam itne behis hochuke hain k har bar inhi logon ko vote dekar aiwano mein bhej dete hain . . .meri za’tti rae mein Imran Khan saheb baaqi siyasat dano se alag the …lekin ye sab apni aankhon se dekhne k bad meine apni aankhen kholne ka faisal karlia hai aur ye tahayya kia hai k ab ki bar ussi ko vote dekar aiwan mein bhejoonga jis ne haqeeqi mani mein mere sheher aur mere mulk mein rehne wale mazloom Pakistanion k lie kuch kia hoga . . .

Akhir mein,mein sirf apne ham waton se sirf itni guzarish karna chahoonga k khudara apne mulk Pakistan par rehem karen …aise logon ko hargiz vote na den jin k zahir aur batin mein numaya farq hai jo samne kuch kehte hain andaar karte kuch aur hain ….

“Apna ka hamwatan Pakistani ”

————————————-

Friends, below are the snapshots that i received as attachments.

1) One of the advert of Pakistan Tehreek-e-Insaf appearing on “Facebook Advert”

2) Facebook Advert Fee as required by Facebook




Since we Pakistanis often suffer simultaneously from the twin demons of megalomania and paranoia – verily we are better than everyone else and that is why everyone is out to get us – we often also look at history through a rather selective and distorted lens. Unfortunately, none typify this mindset more than the doyens and doyennes of the Pakistani electronic media, in whom a curious mix of hyper-patriotism, half-baked information, sincere ignorance and arrogant bluster seems generally to hold sway.

Take the issue of the day on Pakistani media: whether the American known by his apparent pseudonym “Raymond Davis” – who shot dead two men in Lahore – can be tried by Pakistani courts or whether the US government has any right to claim diplomatic immunity for him. I am not going to offer my own opinion on this because, for better or worse, this is an issue for the US and Pakistani states to sort out. (I should, however, point out that, personally speaking, I do not think armed Americans or armed anyone should be roaming around the streets of Pakistan.)

But having seen numerous commentaries on television where emotive claims have been made about how Americans have not respected diplomatic immunity in their own cases, how immunity does not extend to serious crimes or how Pakistani diplomats have never been extended this kind of privilege, I just want to direct readers to a few examples.

Here’s The Independent reporting in 1997 about a case in which a drunk Georgian diplomat killed a 16-year-old girl in New York with his reckless driving and the US requested a waiver from immunity for him. (The paper reports that Georgia was unlikely to approve the request though it actually was approved at the discretion of the Georgian government and the diplomat was sentenced for 7-21 years. He was transferred back to Georgia after serving three years [link courtesy @qabacha].) The piece also cites other incidences of less egregious crimes by diplomats that go unpunished. Appropriately for us, the story is titled “Can A Diplomat Get Away With Murder?”

You may also recall the shooting dead of British constable Yvonne Fletcher apparently by Libyan embassy staff in London in 1984 as well as the wounding of 11 others. Diplomatic immunity allowed the staff not to be prosecuted at all, though Britain subsequently broke off diplomatic relations with Libya. Fifteen years later, Libya accepted “general responsibility” and paid compensation, though some experts continued to question whether the police officer’s death was actually caused by someone shooting from within the embassy.

Coming to Pakistani diplomats invoking diplomatic immunity, let us recall the case of our Ambassador to Spain, Mr. Haroon-ur-Rashid Abbasi, who Pakistan withdrew from his post in 1975 without allowing prosecution when heroin was discovered in his suitcase.

Let us also recall the case of our longtime permanent rep at the UN, Ambassador Munir Akram in 2003 who was accused of assault by his then girlfriend. The US also asked Pakistan to waive immunity in that case, which Pakistan did not oblige. (The case was eventually settled when Mr Akram persuaded his girlfriend to withdraw the charges against him).

So, as they say, au contraire, my friends.

Some final points, and please remember that we are only taking issue with the ‘facts’ of the case as presented in the media. Television analysts have almost unanimously claimed that “Davis” did not have a ‘diplomatic visa’. It might behoove someone to ask our media pundits if they have ever actually seen a Pakistani diplomatic visa. From our own investigations, it seems Pakistani visas have no such specified category of ‘Diplomatic Visa’ (unlike some other countries). In fact, according our sources, all foreign diplomats receive Pakistani visas with the marking “Purpose of Visit:” “Official” or “Official Business” (not Official / Business, another category that does not exist) on their diplomatic passports. If they carry such a visa on their diplomatic passport and the Foreign Office has been so notified, they receive diplomatic immunity during their stay in Pakistan.

Here are some scans of Davis’ passport as presented on DawnNewsReporter programme…

This is the marking on his passport, which clearly states that he is on “diplomatic assignment”

This is his current visa, issued incidentally not in Washington (as claimed by Shireen Mazari on Geo and Syed Talat Hussain on DawnNews) but in Islamabad:

 

Raymond Davis Passport

In fact, “Davis” only once received a three-month visa in 2009 from Washington. His subsequent 4-month visa in 2010 and his current 2-year visa were both issued within Pakistan.

Kamran Khan on Geo also went to great lengths to ‘break the news’ that “Davis” is a spy who works for the CIA. He almost certainly is. But not only is that not amazing insight, we have to ask, so? Is his actual work the issue of contention here? As former ambassador Zafar Hilaly pointed out on Dunya, spooks get posted on “cover postings” abroad all the time, including by the Pakistan Foreign Office, and they all receive diplomatic immunity under the Vienna Convention. Let’s at least be clear what we are arguing about.

: : : UPDATES : : :

There have been some comments questioning some of my assertions in this post, which have been answered in the comments section. You may want to have a look.

A couple of other cases have been brought to our notice which we are also sharing. The first is the case in January 2001 of a Russian diplomat who killed a woman in Canada while driving drunk. A couple of quotes from this piece are worth pointing out.

“Andrey Knyazev was charged with criminal negligence causing death, impaired driving, failing to provide a breath sample, and criminal negligence causing bodily harm. Knyazev immediately claimed diplomatic immunity and on Monday, Russia denied Canada’s request to lift it. [Russian Ambassador Vitaly] Churkin urged Canadians not to judge all Russians on the actions of one man. But he defended his government’s right to recall Knyazev, saying it’s tradition and common practice in the diplomatic community. “Many people are not happy that we didn’t lift the diplomatic immunity,” Churkin said. “The Canadian government has expressed its displeasure but recognized that this is our right.””

And this bit of wisdom from Canada’s Foreign Minister that Pakistanis may also want to understand:

“[The] tragedy has raised questions about the use of diplomatic immunity to escape prosecution. But Foreign Affairs Minister John Manley says he will not use this case to press for changes. “There’s an old saying among lawyers that hard cases make bad law,” Manley said following a cabinet meeting Tuesday. “I think that (revising diplomatic rules) is something that we’d want to look at in a broader circumstance, not in the situation which we’re in now,” he said.”

Incidentally, Shahid Saeed has also pointed out two further cases where Pakistani diplomats have invoked diplomatic immunity. The first involved Col Mohammad Hamid, a military attache in Pakistan’s High Commission in London, who was caught in 2000 having sex with a prostitute in his car in a public place. When caught, Hamid immediately invoked diplomatic immunity and therefore could not be arrested. Here’s an Indian Express report of the incident, which was also reported in the English papers.

The second involved the arrest in April 2001 in Kathmandu of Pakistan’s first secretary Mohammad Arshad Cheema. 16kg of high-intensity explosive RDX were recovered from his residence. The Indian government believed him to be also linked to the hijacking of the Indian Airlines flight IC-814 which resulted in the freeing from Indian prisions of (subsequently Daniel Pearl murder accused) Omar Saeed Sheikh and Jaish-e-Mohammad leader ‘Maulana’ Masood Azhar. This report from the respected Indian magazine Frontline presents a wider and less one-sided perspective on the arrest. It also provides evidence of two things we already asserted in our post: that spies (and even military operatives) are often posted by foreign governments under diplomatic cover and that diplomatic immunity extends even to grave crimes. Cheema was expelled from Nepal rather than be prosecuted even though, by any definition, possessing high intensity explosives for ulterior motives is a very serious charge in any country.



et cetera
%d bloggers like this: