Youth Awareness












US Efforts to encourage old heritage

امریکی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر دئے گئے ایک اشتہار، یو ٹیوب پر موجود ویڈیوز اور امریکی سفارتخانے کی ویب  سائٹ پر موجود معلومات سےانکشاف ہوتا ہے کہ پاکستان میں قدیم ہندو رسوم اور انتہائی متنازعہ امور کو پھیلانے اور مقبول بنانے کے لئے  امریکی سفارتخانہ   گزشتہ دس  برس سے ہر سال کروڑوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ امریکی سفارتخانے کا موقف ہے کہ پاکستان جس خطے میں موجود ہےاور جو علاقے پاکستان میں شامل ہیں وہاں  ماضی میں انتہائی  ترقی یافتہ قومیں آباد تھیں اور  ان کا ایک کلچر تھا جو اس علاقے کا اصل کلچر ہے اور امریکی سفارتخانہ اس قدیم اور اصل کلچر کو بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر دئے اعدادوشمار سےپتہ چلتا ہے کہ امریکی سفارتخانہ ایسے 17 متنازعہ ترین پروجیکٹس پر کام کررہا  ہے اور ان کے لئے فنڈز فراہم کررہا ہے جس سے پاکستانی معاشرے میں انتشار مزید پھیل رہا ہے، ان سترہ پروجیکٹس میں اکثر قدیم ہندو اور بدھ  مت رسوم اور تہواروں پر مشتمل ہیں اور پاکستانی معاشرے میں حال  ہی میں انہیں زور و شور سے منانے پر محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے۔ امریکی سفارتخانے کی ویب سائٹ کے مطابق ان میں سے ایک بسنت و بہار نامی تہوار ہے۔ ا مریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ یہ اس خطے کا قدیم تہوار اور ثقافت ہے اس لئے وہ اسے معاشرے میں رائج کرنے اور محفوظ کرنے کے لئے فنڈز فراہم کررہا ہے۔ انہیں سترہ پروجیکٹس میں  قدیم بدھ   دیوتائوں کے بت، قدیم مندر اور  دیگر  ایسے علاقائی تہوار شامل ہیں جو اب معدوم ہوچکے ہیں اور اگر انہیں بحال کیا جاتا ہے تو اس سے براہ راست پاکستانی تشخص اور  اسلامی کلچر پر اثر پڑتا ہے۔ امریکی سفیر کا  ایک کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی نہیں بلکہ علاقائی ثقافت کو محفوظ بنانے کے لئے کام کررہے ہیں اور انہیں اس کی اجازت اقوام متحدہ کا چارٹر دیتا ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر دئیے گئے اشتہار کا عکس امریکی سفارتخانے کی جانب سے فیس بک پر دئیے گئے اشتہار کا عکس

Advertisements


et cetera
%d bloggers like this: