Youth Awareness











{February 29, 2012}   مجھے میری بیوی سےبچاو

منیر احمد فردوس

شروع سے سنتے آئے ہیں کہ جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے مگر میں نے کبھی شہر میں کوئی گیدڑ نہیں دیکھا بلکہ ہر طرف شوہر ہی دیکھے ہیں، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب کسی مرد کی شامت آتی ہے تو وہ سر پر سہرا سجا لیتا ہے، جسے عرفِ عام میں شادی کرنا کہتے ہیں۔ شادی اور شامت دونوں  ”ش” سے شروع ہوتے ہیں اس لئے دونوں کا مقصد اور اثرات بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ شامت میں آدمی خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتا ہے جبکہ شادی میں اس کا پورا خاندان اس پر وار کرتا ہے۔یعنی مرد کو شادی کے نام پر مرد چوسنے والی ایسی ”چوسنی مخلوق” کے پلے باندھ دیا جاتا ہے جسے بیوی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہ واحد خود کفیل مخلوق ہے جس کا قحط آج تک نہیں پڑا اور یہ دنیا کے ہر خطے میں خودرو گھاس کی طرح اگتی ہے۔
الطاف حسین حالی نے کہا تھا کہ دنیا کی اصل خوبصورتی عورت کی وجہ سے ہے۔ پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا مگر جب عورت کے نام پر ایک عدد بیوی گھر لایا تو اندازہ ہوا کہ الطاف حسین حالی نے یقیناً نظام شمسی کے کسی اور سیارے کی عورت کو اس کی خوبصورتی کہا تھا۔مگر افسوس کہ الطاف حسین حالی نے اس سیارے کا نام نہیں بتایا۔ پہلے دن سے ہی بیوی نے کامیاب وارکر کے گھر کا چین سکون چوس لیا۔پہلے میری آنکھ پڑوسیوں کے گھر میں ہونے والی لڑائی سے کھلتی تھی اور اب ان کی آنکھ میرے گھر میں ہونے والی لڑائی سے کھلتی ہے بلکہ جس دن لڑائی نہ ہو تو لوگ عیادت کو پہنچ جاتے ہیں۔ایک  مولوی صاحب نے کہا تھا  کہ انسان کا دشمن شیطان ہے، اس سے بچ کے رہو گے تو زندگی آرام سے گزرے گی، مگر شادی کے بعد احساس ہوا کہ شیطان کا تو یوں ہی نام بدنام ہے، اصل کارنامے تو بیوی کے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شیطان نے اپنی جنس اور نام تبدیل کر کے بیوی رکھ لیا ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ جس مولوی نے ایسا کہا تھا وہ کنوارا ہو۔مجھے جلیبی اور بیوی کی نیت میں کبھی فرق نظر نہیں آیا۔نئے ملبوسات، زیوارت، فیشن، پرفیوم، جوتے، میک اپ کا سامان، شاپنگ، بیوٹی پارلر کے چکراٹے، غرض کون سی ایسی فرمائش ہے جو میں نے پوری نہ کی ہو مگر پھر بھی بات بات پر طعنہ، لڑائی اور دھمکیاں میرا مقدر بن گئیں۔ ہر اس آدمی سے کہا جس نے میر ی شادی میں شرکت کی تھی کہ مجھے میری بیوی سے بچائو مگران سب کی بھی ایسی ہی حالت تھی۔دوسرے خاوندوں کا اس بات پر ایمان ہو یا نہ ہو مگر میراتو پکا  ایمان ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنے گناہوں کی سزا اس دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔ طالب علموں کو گناہوں کی سزا بھاری بھرکم بستوں کی صورت میں اور شوہر کو سزا بیوی کی صورت میں مل رہی ہے۔شادی سے پہلے میں مال گنا کرتا تھا اور اب سر کے بال گنتا ہوں۔میں ان شوہروں سے ضرور گذارش کروں گا جن کے بال ابھی تک فخر سے سینہ تانے کھڑے ہیں کہ ہمیشہ بیوی کے لئے نرم تلے والے جوتے لایاکریں بلکہ گر ہوائی چپل ہی لیا کریں تو ان کے بالوں کی عمر بیوی کی طرح لمبی ہو سکتی ہے۔ بیوی کا خرچ بند کیا تو اس کے آنسوئوں کے لشکر نے خرچہ دوبارہ جاری کروادیا اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ بیوی کے آنسو کا ایک قطرہ مرد بیچارے کی تنخواہ کے ساتھ ساتھ اس کی مردانگی بھی بہا کر لے جاتا ہے۔بیوی شادی سے پہلے معصوم پرندہ اور شادی کے بعد خونخوار درندہ بن جاتی ہے، جس کی نظر اور ہاتھ صرف جیب اور بالوں پر ہی ہوتےہیں۔اس درندے کی نظر اتنی طاقتور اور تیز ہوتی ہے کہ اسے چھ فٹ کا شوہر نظر نہیں آتا مگر تین انچ کی جیب دور ہی سے نظر آ جاتی ہے۔
بیوی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں یعنی صحافی بیوی، سیاسی بیوی، صحافی بیوی، لڑاکا بیوی، کڑاکا بیوی، چالباز بیوی، جھوٹی، ڈرامہ باز، اور ڈرائونی بیوی۔مختلف اقسام کی بیویاں ہونے کے باوجود سب کا ایک ہی کام ہوتا ہے، گھر کو میدان ِ جنگ بنا کربیچارے شوہرکے ساتھ جنگ کرنا۔ اس لئے یہ حقیقت ہے کہ مرد کے لئے شادی کی رات خوشیوں کی آخری رات ہوتی ہے۔ میں نے ایک عامل سے بھی کہا کہ ”محترم! مجھے میری بیوی سے بچائو”۔ اس نے کہا ”اگر میری بیوی نہ ہوتی تو آج میں بھی عامل نہ ہو تا۔اگر تمہارے اوپر جن سوار ہو جاتا تو میں اسے سیکنڈوں میں اتار دیتا، مگر تمہارے اوپر بیوی جیسی مخلوق سوار ہے، جس سے میرے تمام مئوکل ڈرتے ہیں،بلکہ وہ تو خود اپنی بیویوں سے بھاگ کر میرے پاس آئے ہیں۔بیوی سے تمہیں اب صرف عزرائیل ہی نجات دلا سکتاہے۔”
میرا اب یہ تجزیہ ہے کہ شادی کے بعد رنگین مرد غمگین ہو جاتا ہے اور بیوی کی صورت میں اسے غموں کی ایسی پوٹلی ملتی ہے، جس کے ہر غم میں ہزاروں غم چھپے ہو تے ہیں جس میں سب سے بڑا غم یہی ہوتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی تمام جائیداد و املاک میں برابر کی حصہ دارہوتی ہے، سوائے غم و الم کے۔ اس لئے بیوی کی تعریف بھی شاید یہی ہے کہ ”وہ عورت جو شادی کے بعد دل جلاتی ہو نہ کہ ساتھ نبھاتی ہو۔”
ایک عدد بیوی پالنے کے بعد اب میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ شادی کا صرف ایک ہی فائدہ ہے کہ خود کشی کرنے کے لئے رسی نہیں خریدنی پڑتی۔ آخر پر ایک نصیحت میں ان شوہروں کو کرنا چاہوں گا جو بیوی آلود ہو چکے ہیں”اے پاکستانی خاوندو! بیوی کو مضبوطی سے باندھے رکھو، تاکہ تم میری طرح سے یہ کہنے پر مجبور نہ ہو جائو کہ “مجھے میری بیوی سے بچائو”۔

 



Nauman Zaheer says:

Very well.. I almost agree.



Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

et cetera
%d bloggers like this: